علی گڑھ10اگست(آئی این ایس انڈیا)ملت بیداری مہم کمیٹی ( ایم بی ایم سی) نے صدر جمہوریۂ ہند کو علی گڑھ کے ضلع مجسٹریٹ کے توسط سے ایک میمورنڈم ارسال کرکے آئین کی دفعہ341 کے اپر1950میں صدر جمہوریۂ ہند کے حکم نامہ کے ذریعہ لگائے گئے پیرا۔3کو ہٹانے کامطالبہ کیا ہے جس کے تحت مسلمان اور عیسائی دلتوں کو ہندو، سکھ اور بودھ دلتوں کے مساوی حقوق اور ریزرویشن سے محروم کیاگیا ہے۔آئین کی دفعہ341کے تحت ہندو دلتوں کو رزیرویشن اور دیگر سہولیات مہیا کرائی گئی ہیں بعد میں تبدیلی کرکے ہندو دلتوں کے ساتھ سکھ اوربودھ دلتوں کو بھی ان سہولیات کا مجاز قرار دئے جانے کی غرض سے مذکورہ دفعہ میں شامل کرلیاگیالیکن مسلمان اور عیسائی دلتوں کو دفعہ341 کی سہولیات سے محروم رکھاگیا ہے جو ناانصافی پر مبنی ہے۔ ان خیالات کااظہار ساہتیہ اکادمی ایوارڈیافتہ ممتاز نقادپروفیسرابوالکلام قاسمی نے ملت بیداری مہم کمیٹی کے زیرِ اہتمام مزمل منزل کامپلیکس میں واقع میڈیا سینٹر علی گڑھ پرمنعقدہ ایک میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ مسلمان اور عیسائی دلتوں کومحض1950کے صدر جمہوریہ کے حکم نامہ کے پیرا۔3 کے سبب مذکورہ دفعہ341کا فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے لہٰذا1950کے صدر جمہوریۂ ہند کے حکم نام،ہ کا پیرا۔3 خارج کیا جانا چاہئے۔اے ایم یو کورٹ کے رکن پروفیسر ہمایوں مراد نے کہا کہ چونکہ دفعہ341 کے لئے1950میں صدر جمہوریۂ ہند کے حکم نامہ کے پیرا۔3 میں کہاگیا ہے کہ دفعہ341کا فائدہ صرف ہندو، سکھ اور عیسائی دلتوں کو ملے گا لہٰذا یہ آئین کی دفعہ۔25 کی خلاف ورزی پر مبنی ہے جس کے تحت ملک کے سبھی مذاہب کوماننے والوں کو برابر کے حقوق دیئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صدر جمہوریۂ ہند کے1950کے حکم نامہ کا پیرا۔3 فرقہ پرستی پر مبنی ہے اس لئے یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔
اے ایم یو کی قانون فیکلٹی کے سابق ڈین پروفیسر محمد شبیر نے کہا کہ صدر جمہوریۂ ہندکے1950کے حکم نامہ کا پیرا۔3 صرف آئین کی دفعہ25 کی ہی نہیں بلکہ14,15اور16 کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے اور آئین کی روح ’’برابری‘‘ کے خلاف ہے۔ایم بی ایم سی کے سکریٹری ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ دفعہ341پر صدر جمہوریۂ ہندکے 1950کے حکم نامہ سے متعلق کیس سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے اور مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کی بار بار ہدایت کے باوجود اپنا موقف رکھتے ہوئے حلف نامہ داخل نہیں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دلت مسلمانوں اور عیسائیوں کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے سبھی دلتوں کی سماجی اور اقتصادی حالت ایک جیسی ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اور عیسائی دلتوں کو آئین کے تحت انصاف اور برابری کا حق ملنا چاہئے۔این جمال انصاری نے کہا کہ مرکزی حکومت نے2005میں تشکیل شدہ رنگا ناتھن مشرا کمیشن نے بھی مسلمان اور عیسائی دلتوں کو دفعہ341میں لانے کی سفارش کی ہے۔ میٹنگ کے آخر میں ملت بیداری مہم کمیٹی نے اتفاقِ رائے سے تجویز پاس کرکے ضلع مجسٹریٹ کے توسط سے صدر جمہوریۂ ہند کو ارسال کردہ میمورنڈم میں اپیل کی ہے کہ وہ آئین کی دفعہ341کے اپر1950کے صدر جمہوریۂ ہند کے حکم نامہ کے پیرا۔3کو آئین میں برابری کے حقوق اور عوامی فلاح میں خارج کریں تاکہ سبھی دلت طبقات کو برابری کے مواقع دستیاب ہوسکیں۔ اس موقع پردفعہ341پر داعلی گڑھ موومینٹ کے خصوصی شمارہ کا اجرا بھی عمل میں آیا۔اس موقع پرمحمدشاہد خاں، انصار احمد، اقبال سیفی، عمار خاں، دلشاد احمد اور محمود انصاری بھی موجود تھے۔